2 جولائی 2026 - 13:00
دوسری قسط | امریکہ-اسرائیل کا رشتہ؛ ایسی شادی جس میں طلاق کا تصور تک نہیں ہے، مائیک ہکابی + ایک نکتہ + تصاویر

مقبوضہ اراضی میں مقیم امریکی سفیر مائیک ہکابی، نے ایک قابلِ غور بیان میں واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلق کو ایک "ناقابلِ یقین شادی" سے تشبیہ دی اور علیحدگی کو ـ بھاری لاگت (نان و نفقہ) کی وجہ سے ـ فریقین کی علیحدگی کو ناممکن قرار دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی (Mike Huckabee) نے ایک انٹرویو میں ـ جو اخباری ویب گاہ کلیش رپورٹ (Clash Report) کے حوالے سے شائع ہؤا ہے ـ دوستانہ لیکن مکمل طور پر واضح الفاظ میں امریکہ اور صہیونی ریاست کے تعلقات کی تزویراتی نوعیت کی تصویر کشی کی ہے۔

پہلی قسط | امریکہ-اسرائیل کا رشتہ؛ ایسی شادی جس میں طلاق کا تصور تک نہیں ہے، مائیک ہکابی

دوسری اور آخری قسط:

امریکہ کے صہیونی عیسائی سفیر مائیک ہکابی کے بیانات پر تبصرہ

شاید امریکی سفیر مائیک ہکابی کے بیانات کا سب سے قابلِ غور حصہ ـ اس ناقابلِ شکست بندھن کو درست ثابت کرنے کے لئے ـ اس کے پیش کردہ الٰہیاتی دلائل ہیں؛ جہاں وہ کہتا ہے: "..متبادل الٰہیات کا کوئی وجود نہیں ہے، کیونکہ اگر ہم ایسا عقیدہ رکھیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خدا نے یہودیوں کے ساتھ اپنا عہد توڑ دیا ہے اور اگر خدا یہودیوں سے اپنا عہد توڑ دے، تو وہ اسی طرح مجھ عیسائی کے ساتھ بھی اپنا عہد توڑ سکتا ہے۔ آپ کو ایسا خدا چاہئے جو جو اپنے وعدوں کا وفادار رہے!"۔ (1)

دوسری قسط | امریکہ-اسرائیل کا رشتہ؛ ایسی شادی جس میں طلاق کا تصور تک نہیں ہے، مائیک ہکابی + ایک نکتہ + تصاویر

مائیک ہکابی کے صریح اور بے پردہ بیانات بیانات، ایک سادہ سفارتی خطا نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کی غیر ارادی بازگشت ہیں جس پر محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کے اسٹراٹیجک تجزیہ کار برسوں سے تاکید کرتے آئے ہیں اور وہ حقیقت یہ ہے کہ: اسرائیل خطے میں کوئی خودمختار اور آزاد اداکار نہیں، بلکہ واشنگٹن کا عملیاتی (اور Operational) بازو اور نیابتی آوزار (Proxy instrument) ہے جو قوموں کو قابو کرنے اور امریکی استعماری [عالمی] نظام کو آگے بڑھانے کا کام کرتا ہے۔ جب امریکی سفیر فریقین کے تعلق کو "..شادی" کا نام دیتا ہے اور علیحدگی کو "ناممکن" قرار دیتا ہے، تو وہ اس اسٹراٹیجک وہم کو عملی طور پر، چیلنج کرتا ہے کہ "وائٹ ہاؤس سے مفاہمت کی جا سکتی" ہے اور "تل ابیب کی شرارتوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔" [وہ یکجان و دو قالب ہیں اور وہ دونوں ایکہی ہدف کے لئے کام کرتے ہیں۔]

پہلی قسط | امریکہ-اسرائیل کا رشتہ؛ ایسی شادی جس میں طلاق کا تصور تک نہیں ہے، مائیک ہکابی

عالم اسلام اور عالم عرب کے اندر اندازوں کی غلطی / غلط فہمی کا آغاز بھی عین اسی نقطے سے ہوتی ہے؛ جہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ واشگٹن کے ساتھ تناؤ الگ ہے اور تل ابیب کے ساتھ تناؤ الگ۔ ہکابی نے اس تعلق کو ناقابلِ طلاق شادی سے تشبیہ دے کر، واضح ترین طریقے سے خبردار کیا ہے کہ یہ دو، ایک منصوبے کے دو نام ہیں؛ ایک منصوبہ جس کی بقا بحران پیدا کرنا، علیحدگی پسندی اور عالم اسلام میں حریت پسندی اور آزادی کو دبانے سے جڑی ہوئی ہے۔

نکتہ:

مائیک ہکابی ایک صہیونی عیسائی ہے اور عیسائی صہیونیوں کے خیالات اور تصورات یہودی صہیونیوں سے بھی بڑھ کر انتہاپسندانہ ہیں؛ جو کچھ وہ عظیم تر اسرائیل کے بارے میں کہتے ہیں وہ یہودی صہیونیوں سے بھی بڑھ کر ہے لیکن ٹرمپ دوسرے صدارتی دور کے انتخابات میں ـ جنگوں سے پرہیز کا نعرہ لگا کر ـ کامیاب ہؤا تھا اور امریکہ کے اندر MAGA تحریک کے تحت، دائیں بازو کے امریکیوں نے اس کو ووٹ دے کر کامیاب بنایا تھا، مگر وہ اپنے عہد پر قائم نہ رہا اور بے شمار تنازعات میں کود گیا اور گئی جنگوں کا آغاز کیا جس کی وجہ سے اس کے ووٹر ـ جو پہلے ہی اسرائیل سے اکتا گئے تھے ـ ایک خاموش اپوزیشن میں شامل ہو گئے ہیں۔ آج امریکہ میں عام اکثریت ہکابی جیسے لوگوں کے تصورات سے متفق نہیں ہے۔ چنانچہ لگتا ہے کہ ہکابی کے مذکورہ بیانات امریکہ میں اسرائیل مخالف رجحانات کو روکنے کے لئے ہیں۔ یقینی امر ہے کہ ہکابی کے انتزاعی اور ذہنی تصورات کا امریکی عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ صہیونی عیسائیوں تک محدود ہیں اور اکثر امریکی ان تصورات کے اعادے سے نہیں بلکہ صہیونیوں کے جرائم دیکھ کر، مستقبل کے لئے اپنی رائے قائم کرتے ہيں۔

................................

1۔ یہودیوں اور صہیونی عیسائیوں کا خدا وہ ہے جس کے لئے قانون و ضوابط وہ خود متعین کرتے ہیں، اور ان کو ایسا خدا چاہئے جو ان کے اپنے وہم کے مطابق کے وعدوں کا پاس رکھے، لیکن اس عقیدے میں ان یہودیوں اور صہیونیوں نیز صہیونی عیسائیوں نے خدا کے ساتھ کوئی عہد نہیں کیا، ان اور خدا کے ساتھ عہد کی پابندی ان پر لازم نہیں ہے اور جو عہد مبینہ طور پر ان سے خدا نے کیا ہے وہ بھی غیر مشروط ہے جس کے لئے انہيں کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا۔ العیاذ باللہ۔

قرآن کریم میں اللہ کا فرمان ہے:

"وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ؛

اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہؤا ہے۔ ان کے ہاتھ بندھیں اور ان پر لعنت ہو، اس کی وجہ سے جو انھوں نے کہا؛ [ایسا نہیں ہے] بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کی جانب اتارا گیا ہے، وہ ان میں سے بہتوں کیلئے سرکشی اور کفر میں اضافہ ہی کرے گا اور ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور کینہ قیامت تک کے لئے ڈال دیا ہے۔ جب بھی یہ جنگ کی آگ سلگائیں گے، اللہ اسے بجھا دے گا اور یہ زمین میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں اور اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔" (سورہ مائدہ، آیت 64)۔

اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: طہورا فلاح

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

دوسری قسط | امریکہ-اسرائیل کا رشتہ؛ ایسی شادی جس میں طلاق کا تصور تک نہیں ہے، مائیک ہکابی + ایک نکتہ

دوسری قسط | امریکہ-اسرائیل کا رشتہ؛ ایسی شادی جس میں طلاق کا تصور تک نہیں ہے، مائیک ہکابی + ایک نکتہ

دوسری قسط | امریکہ-اسرائیل کا رشتہ؛ ایسی شادی جس میں طلاق کا تصور تک نہیں ہے، مائیک ہکابی + ایک نکتہ

دوسری قسط | امریکہ-اسرائیل کا رشتہ؛ ایسی شادی جس میں طلاق کا تصور تک نہیں ہے، مائیک ہکابی + ایک نکتہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha